نام،جگہ اور سمت انسان پر اثر چھوڑتی ہے

سمت اور جائے پیدائش کا انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے
میاں بیوی اور بچّوں کے ناموں میں تکرار کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں
کہیج غدش انسان اور تعمیرات کا علم ہے، جو گھر کو نو خانوں میں تقسیم کرتا ہے
یونانی علم الاعداد میں نام کا ایک حرف تبدیل کرنے سے تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے
نئی نسل ہر چیز میں منطق ڈھونڈتی ہے، علم النجوم ان کی تشفی کرتا ہے
 نوشیروان عادل نے بغداد شہر کی بنیاد کہیج غدش علم کے تحت رکھی ، فنگ شوئی کہیج غدش کی ہی جدید شکل ہے
دست شناسی ہاتھ کی لکیروں، پوروں، انگلیوں کے دائروں ، لکیروں کی گہرائی اور مختلف ماؤنٹ کا علم ہے
علم النجوم کے حوالے سے تین سکول آف تھاٹ انتہائی اہم ہیں
ساڑھ ستی ساڑھے سات سال کا دورانیہ ہے جسے انسان کیلئے مشکل ترین دور تصوّر کیا جاتا ہے
علوم صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں، حل مذہب میں ڈھونڈتے ہیں
تمام ستاروں کی اپنی تسبیہات ہوتی ہیں جن کے ورد سے کئی مسائل حل ہو جاتے ہیں
حسد، ، بغض اور کینہ سے عاملوں کا کردار بڑھا ہے
 عاملوں کی وجہ سے علم النجوم ہمارے ہاں سائنس کا درجہ حاصل نہیں کر سکی
طارق بٹ
انسان کی زندگی پر پیدائش کے وقت اور نام کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ ہاتھوں کی لکیریں آنیوالی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں۔ علم النجوم کو دنیا بھر میں سائنس کا درجہ حاصل ہے۔ اس حوالے سے کئی سکول آف تھاٹ کام کر رہے ہیں جو لوگوں کے مسائل کی نشاندہی کر کے ان کا حل تجویز کرتے ہیں۔ مغرب میں علم النجوم کو باقاعدہ ایک نفع بخش کاروبار کا درجہ حاصل ہے۔ ہمارے ہاں بھی اس علم کے کئی ماہر کام کر رہے ہیں۔ ان میں ایک نام علم النجوم اور فنگ شوئی کے ماہر بدر لغاری کا بھی ہے۔ انہوں نے پاکستان فنگشوئی ڈاٹ کام ویب سائٹ بنا رکھی ہے جس کے ذریعے وہ اندرون اور بیرون ملک لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ وہ سابق سیکرٹری سندھ اسمبلی ولی محمد بلوچ مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ ایم بی اے ڈگری ہولڈر ہیں۔ دست شناسی کا شوق انہیں والدین سے ورثے میں ملا جسے انہوں نے خدمت خلق کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ ان سے علم النجوم کے حوالے سے ہونیوالی دلچسپ معلومات کو قارئین کیلئے پیش کیا جا رہا ہے۔
فنگشوئی ماہر بدرلغاری کہتے ہیں آسٹرلوجی، علم الساعت، یونانی علم الاعداد اور فنگ شوئی باقاعدہ سیکھی ہے۔ فنگ شوئی (کہیج غدش ) اور علم الساعت کا ماہر ہوں۔ انسان کی پیدائش میں 33 فیصد دخل قسمت ، 33 فیصد جائے رہائش اور34 فیصد اچھے بُرے کاموں کا ہوتا ہے۔ اچھے کام کا اچھا اور برے کا منفی نتیجہ ملتا ہے مگر دو چیزیں قسمت اور جائے پیدائش ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ علم النجوم میں میاں بیوی اور بچّوں کے ناموں میں تکرار کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اگر میاں بیوی اور بچّوں کے نام پیدائش اور وقت کی مناسبت سے رکھے جائیں تو اختلافات میں کمی آتی ہے۔ مریخ اور زحل میاں بیوی میں بہت کم بنتی ہے۔ بچّوں کے ستاروں کے موافق نام رکھنے سے والدین کے رشتوں میں بہتری آجاتی ہے۔
شادی کیلئے لڑکے اور لڑکی کے نام میں مطابقت بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ شریک حیات سے ذہنی ہم آہنگی اور خوشگوار ازدواجی زندگی کا زیادہ تر دارومدار ناموں کی مناسبت پر ہوتا ہے ۔ والدین اگر نومولود بچوں کے نام رکھتے ہوئے اس مناسبت کو ذہن میں رکھیں تونہ صرف یہ کہ بچوں کی ذاتی نشوونما کے حوالے سے نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں بلکہ اولاد سے والدین کے تعلقات بھی بہتر رہتے ہی حتیٰ کہ بعض معاملات میں بچّوں کے نام میاں بیوی کے درمیان جاری رنجشیں بھی ختم کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔
 یونانی علم الاعداد کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں نام کا کوئی ایک عدد تبدیل کرنے سے مذکورہ شخص کی زندگی میں اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص کا نام طاہر ہے۔ اسے آئی کے بجائے اگر ای سے لکھا جائے تو اس کے اثرات 41 دنوں کے بعد ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ فنگ شوئی بنیادی طور پر انسان اور تعمیرات کا علم ہے۔ یہ علم گھر کو نو خانوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس علم کے تحت گھر کے افراد، ڈرائنگ روم، کچن، باتھ روم اور دیگر حصوں کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہیں کس مقام پر ہونا چاہئے۔ فنگ شوئی (کہیج غدش) علم حضرت آدم سے منسوب ہے۔ حضرت آدم کی اولاد پیدائش کے بعد فوت ہو جاتی، مکانات گر جاتے۔ انہوں نے ”اللہ تعالٰی سے دعا کی کہ باری تعالٰی اگر تجھے مقصود ہے کہ میری نسل آگے بڑھے اور میرے بنائے مکانات گرنے سے محفوظ رہیں تو مجھے ایسا علم عطا فرما جو مجھے آفات سے محفوظ رکھے۔ ان کی دعا قبول ہوئی“۔
گھر کی تعمیر میں بنیاد کا اہم دخل ہے۔ فنگشوئی کا علم بتاتا ہے کہ بنیاد کی سمت اور تعمیر کا وقت کیا ہونا چاہئے۔ مرکزی گیٹ شمال کی سمت میں ہو تو ایسی صورت میں سال کے کس مہینے اور تاریخ میں بنیاد رکھی جائے تو ہمارے لئے باعث رحمت ہو گی۔ ہم نیا گھر بناتے ہیں تو اکثر سننے میں آتا ہے کہ اس کے مکین بیماری میں مبتلا ہونا شروع ہو گئے۔ بہت اچھے حالات تھے جیسے ہی مکان بنایا ۔ جونہی اس میں منتقل ہوئے گھر والوں کو فائدے کے بجائے اُلٹا نقصانات ہونا شروع ہو گئے۔ حالات ایسے ہوئے کہ مکان بیچنا پڑ گیا۔ نئے گھر منتقلی پر ہم اکثر کہتے کہ ہمارا گھر بڑا بھاری ہے۔ اکثر سننے میں آتا ہے کہ نئے مکان میں منتقل ہوتے ہی حالات بدلنا شروع ہو گئے۔ مکان کی تعمیر کی تاریخوں میں فنگ شوئیکے اُصولوں کو پیش نظر رکھا جائے تو خوش بختی دستک دے گی۔ ان تاریخوں سے ہٹ کر تعمیر کئے جانیوالے مکان میں رہائش کے دوران مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میرے پاس ایک کیس آیا۔ اس گھر کی خاتون مسلسل بیمار رہتی تھی۔ان کی بیٹی کا رشتہ نہیں ہو رہا تھا۔ گھر کی سربراہ خاتون جس کمرے میں رہتی تھی۔ اس میں بیٹی اور بیٹی کو ماں کے کمرے میں ہونا چاہئے تھا۔کمروں کی تبدیلی کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے۔ خاتون کی صحت میں نہ صرف بہتری آئی جبکہ لڑکی کے رشتے آنا بھی شروع ہو گئے۔ فنگشوئی علم مختلف رنگوں کے ذریعے انسانی زندگی پر مثبت اثرات ڈالتا ہے۔ گھر میں مختلف چیزوں کو کن کن جگہوں پر ہونا چاہئے اس کے بارے میں بھی فنگشوئی علم روشنی ڈالتا ہے۔
 ایک بات جو اکثر اوقات ہمارے مشاہدے میں آتی ہے کچھ کیسز میں مریض کے طبی علاج کرانے کے باوجود مرض میں بہتری نہیں ہو تی تو ایسی بیماریاں بعض اوقات روحانی مسائل کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ایسے مسائل کا حل خاص طور پر صدقات اور قرآنی آیات کے ذریعے تجویز کیا جاتا ہے۔ ہم کسی بھی شخص کی بیماری یا روحانی مسئلے کا اندازہ مختلف علوم کے ذریعے لگاتے ہیں۔ علم کی بنیاد پر ہمیں جو معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ ہم اس کا قرآن کی روشنی میں حل تجویز کرتے ہیں۔
 دست شناسی ہاتھ، ہاتھ کی لکیروں، پوروں، انگلیوں کے دائروں ، انگلیوں کی لکیروں کی گہرائی اور مختلف قسم کے ماؤنٹ کا علم ہے جو انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی نے دنیا میں جو بھی چیز بنائی ہے اس کا کوئی مقصد ہے۔ ہاتھ کی لکیریں زندگی کے آنیوالے واقعات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دنیا میں جتنے بھی علوم ہیں۔ ان کی مثال پھل اور چھری کی طرح ہے۔ چھری سے پھل کاٹیں گے تو یہ فلاح انسانی کیلئے استعمال ہو گی۔ اس سے لوگوں کا گلا بھی کاٹا جا سکتا ہے۔ کچھ قرآنی آیات کو مختلف انداز میں پڑھنے کا اثر دوسرے کی تباہی سے منسلک ہوتا ہے۔ اگر انہیں مخصوص انداز، مخصوص وقت اور مخصوص دنوں تک پڑھا جائے تو یہ کسی کے نقصان میں چلی جاتی ہیں۔ یونانی آسٹرلوجی کی بنیاد سات ستاروں پر ہے۔ اب ان ستاروں کی تعداد بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ یورونیس ، نیپچون، پلوٹوکو بھی اب باقاعدہ ستارے تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ان سب کا انسانی زندگی پر خاصا اثر ہے۔ اس حوالے سے تین سکول آف تھاٹ کام کر رہے ہیں۔ ان میں پہلا نام، دوسرا پیدائش اور تیسرا پیدائش اور نام دونوں سے استفادہ کرتا ہے۔ میں تیسرے سکول آف تھاٹ کا حامی ہوں۔
 ساڑھ ستی ساڑھے سات سال کا ایک دورانیہ ہوتا ہے جسے انسان کیلئے مشکل ترین دور تصوّر کیا جاتا ہے۔ یہ ہر انسان کی زندگی میں آتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر نام کے ساتھ ساڑھ ستی ہے اور اس کی پیدائش کا وقت مختلف ہے تو اس کا اثر قدرے کم ہو گا۔ ساڑھ ستی سے نمٹنے کا بہترین حل صدقات اور قرآنی آیات کی پڑھائی ہے۔ ان سے انسان کے معاملات بہتر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
 علوم النجوم صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حل مذہب سے ڈھونڈا جاتا ہے۔ پامسٹری، آسٹرلوجی اور علم الساعت اور علم الاعداد میں یہ چیزیں سیکھی ہیں کہ ہر ستارے کی اپنی تسبیات ہیں۔ ان تسبیات کا ورد کرنے سے بہت سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ میں لمبے چوڑے وظائف کے بجائے چھوٹی چھوٹی آیات تجویز کرتا ہوں۔ مختصر پڑھائی کے ذریعے گھر بیٹھ کر عام آدمی اپنے مسائل حل کر سکتا ہے جس کیلئے کسی عامل کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ان وظائف کو پڑھنے سے اللہ تعالٰی شیطانی بلاؤں سے محفوظ رکھتا ہے۔
قرآنی آیات اور صدقات مسائل سے چھٹکارا کا بہترین ذریعہ ہیں۔ میں نام کے حوالے سے تسبیہات بھی تجویز کرتا ہوں۔ مثال کے طور پر طارق نام کا لبرا میں گھر ہے۔ زہرا اس کا ستارہ ہے۔ اب اس ستارے کے ساتھ کچھ تسبیاں درود ابراہیمی، تیسرا کلمہ اور استغفار منسوب ہیں۔ اس نام کا حامل شخص تینوں تسبیوں کو معمول بنا لے تو معاملات میں آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔
 فنگ شوئی (کہیج غدش) کی ویب سائٹ پر جائیں تو اس کے بارے میں معلومات مل جائیں گی جو نوجوان نسل کو مسائل کا حل تجویز کرتی ہے۔ نئی نسل ہر چیز میں منطق ڈھونڈتی ہے۔ یہ علوم ان کی تشفی کرتے ہیں۔ اس دنیا میں جو بھی شخص آیا ہے اللہ پاک کی ذات اس سے کوئی نہ کوئی کام لے رہی ہے۔ فنگ شوئی پاکستان کے نام سے ذاتی ویب سائٹ پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے لوگ رابطے میں رہتا ہیں ۔ ان میں نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو، سکھ ،عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی استفادہ کرتے ہیں۔
 ستاروں کی روشنی میں نظر آتا ہے کہ فلاں شخص کے ساتھ حادثہ ہونا ہے مگر حادثے سے پہلے صدقات دینے سے اللہ تعالٰی بلاؤں کو ٹال دیتا ہے مگر جہاں حکم ربّی ہو وہاں تمام چیزیں ہیچ ہو جاتی ہیں۔ پامسٹری ، آسٹرولوجی، علم الاعداد، علم الساعت، فنگ شوئی تمام علوم کوالٹی آف لائف بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

Advertisements

Posted on May 26, 2015, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: